162

میرا کردار ہی میری پہچان ہے:اداکار فہد اعوان…………….خصوصی انٹرویو محمدعذیر سلیم

میرا کردار ہی میری پہچان ہے: فہد اعوان
تحریر: محمد عذیر سلیم
فنکار اپنے فن سے پہچانا چاہتا ہے اور ایک اچھا فنکار وہ ہوتا ہے جس کا ہر کردار اس کی پہچان بن جائے ایسا ہی ایک نام شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے خوبصورت ہیرو فہد اعوان کا ہے۔فہد کو بچپن سے ہی اداکار بننے کا شوق تھا انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز چائلڈ سٹار کے طور پر کیا۔چھ سال کی عمر میں ڈان تھیٹر میں پہلا ڈرامہ زوار حسین بلوچ صاحب کی ہدایت میں کیا۔ اپنے والد شیر محمد اعوان صاحب کو ادکاری کرتے دیکھ دیکھ کر فہد کو بھی اداکار بننے کا شوق پید اہو ااس پر ان کے والد نے بھی ان کی حوصلہ افزائی کی او ر باقائد ہ اداکاری کی تربیت حاصل کی۔شیر محمد اعوان کا شما ر تھیٹر انڈسٹری کے سینئر ترین اداکاروں میں ہوتا ہے جو کہ عرصہ 35 سال سے اس فیلڈ میں اپنے ہنر کا جادو جگا رہے ہیں۔ وہ بہت ہی ملنسار اور خوش اخلاق انسان ہیں ہر کسی کا ادب و احترام کرتے ہیں۔
فہد اعوا ن کی 5سے 6فلمیں سینما گھر کی زینت بن چکی ہے جن میں ہاتھوں جٹ،چن ماہی،ڈاکٹرنہ کر اور میری محبت،وحشی گوگا سہر فہرست ہے جبکہ فہد نے بے شمار ڈراموں میں کام کیا ہے۔ کوئی کردار ایسا نہیں جو اب تک فہد نے نہ کیا ہو۔ چاہے وہ بچے کا کردار ہو یا بوڑھے آدمی کا، ہیرو کا ہو یا ولن کا، مزاحیہ کردار ہو یا سنجیدہ سب کردار وں مین اپنا لوہا منواچکے ہیں۔ہر وقت ایک نئے کردار کی تلاش میں رہتے ہیں اور مشکل سے مشکل کردار کو بہت ہی خوبصورتی سے نبھاتے ہیں۔ اب تک کے کئے گئے ڈراموں میں اپنے بہترین کردار ڈرامہ فیسٹیول 2019ء میں کیے گیا ڈرامہ الزام کا انجام کو سمجھتے ہیں جس میں بیک وقت بچپن،جوانی اور پھر بوڑھے کا کردار کیا۔جس پر انہیں بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔
فہد بہترین اداکار کا ایوار ڈ حاصل کرنے کی سمیت اب تک کئی ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں جن میں سٹار پلس کی طرف سے بہترین معاون اداکار اور ملتان آرٹس کونسل کی جانب سے ڈرامہ فیسٹول 2019میں بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی شامل ہیں۔
سٹیج کیریر کا آغاز زوار حسین بلوچ کے ڈرامے سے کیا اور پھر تقریبا تین سال اعجاز چندا کے ساتھ سنگم تھیٹر میں کام کرتے رہے۔معروف ہدایت کار یوسف کامران کے ساتھ ایک ہی ڈرامہ کیا جس سے وہ فہداعوان سے بہتر اداکار فہد اعوان بن گئے۔تھیٹر انڈسٹری میں ببو برال اور مستانہ آئیڈیل ادا کار ہے ویسے تو یہ اپنے تمام سینئر اور جونیئر فنکاروں کی بہت عزت کرتے ہیں۔شائد یہ واحد اداکا رہونگے جو اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدکو دیتے ہیں ایک ملاقات کے دوران فہد نے بتایا کہ اگر میں شیر محمد اعوان کا بیٹا نہ ہوتاتو شاہد میں فہد اعوان بھی نہ ہوتا، والد صاحب سے بہت کچھ سیکھا جب بھی مجھے کوئی نیا کردار ملتاہے تو میں اپنے والد سے رہنمائی لیتا ہوں وہ میر ی بہت اچھی رہنما ئی کرتے ہیں اسی لئے مجھے کوئی بھی نیا کردار کرنے میں کوئی بھی مشکل پیش نہیں آتی۔میں سب اداکاروں کے ساتھ کام کر چکا ہوں البتہ اگر کوئی والد صاحب کے ساتھ ہو تو اس وقت خود کو محفوظ سمجھتا ہوں۔
میرے خیال میں تمام ڈراموں میں ایک جیسی جگت بازی، روائتی کہانی سے لوگ بو ر ہو جاتے ہیں اس لئے کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے ہر کردار کو نیا سے نیا کر کے پیش کروں۔ میرا ہرکردار ہی میری پہچا ن ہے۔اگر میں اداکار نہ ہوتا توپھر میں نعت خواں ہوتا۔
آج کا ڈرامہ پچھے ڈراموں کی نسبت بہت بہتر ہے۔ عوام اچھے کام اور اچھی کہانی کو دیکھنا چاہتی ہے۔
نئے فنکاروں کے حوالے سے کہا نئی جنریشن اس فیلڈ میں ضرور آئیں لیکن سیکھ کر آئیں سینئر ز کا احترام کریں اور سینئر ز کو بھی چاہیے کہ ان کے ساتھ پیار و محبت سے پیش آئیں ان کی حوصلہ افزائی
کریں۔انہوں نے کہاکہ ان کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں ہے نہ میں خود کو نمبر ون سمجھتا ہوں مجھے صرف اپنے کام سے غرض ہے۔ شائقین کی محبت ہی میرا ایوارڈ ہے۔اپنی منزل پرپہنچنے کے لئے دن اور رات محنت کر رہا ہوں اور مجھے اللہ سے امید ہے ایک دن اپنی منزل ضرور حاصل کر لوں گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں