115

کوڑے والا…………..تحریر: ناصر شہزاد ڈوگر

کوڑے والا

میں آج کل بطور ایم ڈی/ چیف اگزیکٹو آفیسر ملتان
ویسٹ مینجمنٹ کمپنی تعینات ہوں۔ کمپنی دو ہزار سے زائد ملازمین پر مشتمل ہے جو کہ 25 لاکھ أبادی کے شہر کی روزانہ کی تقریبأ 800 ٹن ویسٹ کو ٹھکانے لگا کر شہریوں کو صاف ستھرا ماحول دینے کی سعی کرتی ھے۔ کمپنی میں مینیجرز سے لے کر نیچے ڈپٹی مینیجرز اور اسسٹنٹ مینجرز تک کی مکمل ڈسپلنڈ لائن موجود ہے۔یہاں کام کرنے کا تجربہ بہت دلچسپ رہا۔بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ایک دفتر چلانے اور ایک ایسا ادارہ چلانے میں جس کے اوپر بڑی بھاری زمہ داری ہو بڑا فرق ہے۔1139 ہمارا آفیشل ہیلپ لائن نمبر ہے اور اس کے علاوہ کئ اور موبائل فون نمبرز ہیں جہاں پر شکایات موصول کر کےصفائ کے مسائل کو حل کیا جاتا ہے۔صبح اٹھنے سے لے کر رات گئے تک مرا اپنا فون بند نہیں ہو پاتا اور اتنے رابطہ نمبرز ہونے کے باوجود لوگ سارا دن کوڑے کی تصویریں مرے ذاتی نمبر پر بھی بھیجتے رہتے ہیں۔ سارا دن ایسی تصویریں دیکھ کے زہن میں شاید صفائ کے معاملات کچھ اس قدر بیٹھ گئے ہیں ابھی چند دن پہلے خانیوال جانا ہوا تو ڈرا ئیور سے بولا کے کیا آج یہ سڑک اٹینڈ نہیں ہوئ؟ڈرائیور قدرے گھبرا کے بولا کہ سر یہ تو خانیوال ہے۔
ہاں تو میں بات کر رہا تھا کہ ایک دن تو حد ہی ہو گئ۔فون بار بار بج رہا تھا۔ میں کمشنر آفس میں ایک انتہائ اہم میٹنگ میں مصروف تھا۔میں نے میٹنگ کی وجہ سے اگنور کیا مگر فون کسی صورت رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔میں نے سمجھا کہ لازمی کوئ ہنگامی صورت حال ہے۔میں نے میٹنگ ہال سے فورأ باہر نکل کے فون اٹینڈ کیا تو آگے سے کوئ خاتون تھیں۔وہ بنا کسی سلام دعا کے گویا ہویئں کہ”سر آپ کوڑے والے ہیں؟”مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ کیا جواب دوں۔میں نے لمبی سانس لے کر کہا “جی باجی کوڑے والا ہوں آپ حکم کریں”کہتی کہ بھائ دو دن سے گلی میں کچرا اٹھانے کوئ نہیں آیا۔میں نے ان سے کہا کہ ابھی آپ کو کمپنی کی طرف سے کال آئے گی۔آپ پریشان نہ ہوں۔فون رکھنے والا تھا کہ محترمہ بولی کہ بھائ ایک اور بھی مسئلہ ہے۔ میں نے کہا کہ اور کیا ہے۔ کہتیں کہ ہمارا گٹر بھی بند ہے۔میں نے فورأ جواب دیا “باجی میں کوڑے والا ہوں۔گٹروں والا کوئ اور ہے۔میں آپ کو ان کا نمبر بھیجتا ھوں۔یہ کہ کر میں نے فون کاٹ دیا اور ایم ڈی واسا راؤ قاسم صاحب جو کہ انسویں گریڈ کے بڑے سینئر آفیسر تھے ان کا نمبر ان کو بھیج دیا۔میں واپس میٹنگ ہال میں جا کے بیٹھا تو دماغ میں کوڑے والا،گٹر والا چلتا رہا اور میں مسکراتا رہا۔ اس دن سے ان عظیم لوگوں کی عزت دل میں اور بھی بڑھ گئ کہ یہ وہ کام کرتے ہیں جو ہم میں سے کوئ بھی نہیں کر سکتا۔ہماری پاک صاف فضائیں ان کے دم سے ہیں۔ان کا بہنے والا پسینہ ہماری تمام تر خوشبوؤں کا ضامن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں