154

ینگ پاکستانیز آرگنائزیشن کے بانی نعیم اقبال نعیم کی سماجی خدمات نا قابل فراموش ہیں: ایم پی اے ندیم قریشی

ملتان( )سماجی تنظیموں کی معاشرتی خدمات کو کبھی بھی فرمواش نہیں کیا جا سکتا سماجی رہنماہ نعیم اقبال نعیم ملک وقوم اور خصوصا سماجی شعبے کا قابل قد رایک بہت معتبر حوالہ اور سرمایہ ہیں جنہوں نے نسل نو کی فکری آبیاری میں قلیدی کردار ادا کیا ہے۔ینگ پاکستانیز آرگنائز یشن نے نو جوانوں اور طلبا کو ملکی و قومی نظریاتی اساس روشناشی میں ینگ پاکستانیز آرگنائز یشن کا قلیدی کردار ہے ملک وقوم کو نعیم اقبال نعیم جیسے فکر مند اورسماجی شعور سے لبریز نوجوانوں کی آج بھی ضرورت ہے جو ملک کو ہر قسم کے نام نہاد بحرانوں اور فکری دیوالیہ پن سے نکال سکتے ہیں۔ینگ پاکستاینز کے مجاہد دراصل نوجوانوں کے کمانڈر ہیں جو دراصل طلباء وطالبات کو ملک وقوم کی فکری ونظریاتی سرحدوں کی حفا ظت کے لیے تیار کر رہے ہیں ہمیں فکر ہے ہمارے ملتان کو نعیم اقبال نعیم جیسا جوان عظم یو تھ لیڈر میسر ہے نعیم اقبال نعیم نوجوانوں کی سفیر اور ملتان کی پہچان ہے۔اُن کی سماجی اور فلاحی اور علمی اور ادبی خدمات ملتان کی تاریخ کا روشن باب ہے ان خیالات کا اظہار ممتاز نوجوان سیاستدان ندیم قریشی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات و ثقافت حکومت پنجاب نے جنوبی پنجاب کی معروف سماجی تنظیم دیپ آرگنائز یشن ملتان کے زیر اہتمام عصر حاضر کے سما جی تنظیموں کے قائد نعیم اقبال نعیم کی سماجی وادبی و علمی خد مات کے اعتراف واعزاز میں ای لیبائری ملتان میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے کیا تقریب کی صدارت سماجی تنظیموں کے قدیمی راہنما سبیطن رضا لودی نیشنل کوادنیٹر سول سوسائٹی نیٹ ورک پاکستان نے کی جبکہ معروف ماہر تعلیم پروفیسر طارق شاہ قادری صدر دیپ آرگنائز یشن ملتان میز بان تھے اس موقع پر ملتان کے مختلف شعبوں کے ماہرین سماجیات معاشیات،ترقیات اور علمی حلقوں کے قائدین جن میں مخدوم سے زوہیب گیلانی،مخدوم شعیب اکمل ہاشمی چیئر مین اوور سیز پاکستانیز،سید زاہد حسین گر دیزی،خواجہ مظہر الحق، محمد سلیم،خواجہ محمد فارق،پروفیسر اعظم حسین،پروفیسر عنایت علی قریشی،طاہرہ نجم، پروفیسر نصرت محمود خان، بیر سٹر احسن ہاشمی،طارق عمر چوہدری،ڈاکٹر نیاز شیخ،افتخار مغل،رفعت اسلام،تانیہ عابدی،عذیر سلیم،محمد سہیل،احمد ندیم انصاری،رانا ممتاز رسول،میاں محمد ماجد،طارق محمود قر یشی،زمان خان،انیقہ وردا سید مصور نقوی،محمد جاوید اقبال غوری،قاری عبد اللہ،ملک محمد یوسف، ملک شاہد یوسف،علی مرزا،حذ یفہ اکبر،رانا آصف ظہیر،محمد ارسلان انصاری،پروفیسر عبد الماجد وٹو،عامر یاسین،ارسلان سرفراز،مختیار سومرو،مخدوم ارشد حسین،اشرف قر یشی،دلاور عباس،قمر ہاشمی سمیت ودیگر شامل تھے۔مقررین نے اپنے اپنے خیالات میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ملتان ہمارا ازل سے محرومیوں کا شکار ہے اُس کی تشخص وقار کے گراہ قدر اضافے کے لیے ملتان کی سما جی تنظمیں بر سر پبیکار ہیں فلاحی اور رضاکارانہ تنظیموں کا ریکارڈ ہے کہ وہ کسی قسم کی کرپشن اور شخصیت پرستی سے مُبرا ہیں۔تنظیموں کی کارگردگی کی بدولت ہی سرکاری اور غیر سرکاری ادارے ملتان کی ترقی کے لیے متحرک ہیں۔اور ملتان کے مسائل کے حل کے لیے کو شاں ہیں۔مقر رین نے حا لیہ سما جی تنظمیوں پر میڈ یا پراکسی وار ناقابل برداشت ہے چند گمرا اور حاسدین کی جانب سے بلا جواز اور عدم ثبوت و شواہدکے بغیرمیڈیا کو بطور ہتھیار کا استعمال صحافتی اداب اور قوانین کے منافی ہے۔مقررین نے مزید کہا کہ تنقید برائے تنقید کی بجا ئے مفامفتی اور خوش اسلوبی کا مقالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے تا کہ معاشرتی تعمیر وترقی اور اُس کی بیانیہ کو مثبت سوچ اور باہمی اخوت کے پرائے میں پروان چرھانے کی ضرورت ہے تقر یب کے آخر میں ملتان کی سماجی تنظیموں کی جانب سے نعیم اقبال نعیم کی سماجی خدمات کے اعتراف میں شیلڈ پیش کی گئی شہر کی نمایاں شخصیات نے نعیم اقبال نعیم کی پزیرائی کے لیے محبت اور اخوت پر مبنی پھولوں کے گلد دستے ہار پیش کئے اور سامعین کی جانب سے پھولوں کی پتیاں نچاور کی گئی تقریب میں نعیم اقبال نعیم کی کاوشوں اور کوششوں کا بہترین اظہار اور اعتراف شمار کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں